این اے 122ضمنی انتخاب؛ ایاز صادق لاہور کے لاڈلے بن گئے

مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق اور تحریک انصاف کے علیم خان کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے

مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق اور تحریک انصاف کے علیم خان کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے

لاہور: قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں ضمنی انتخاب کے خیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار ایاز صادق 75 ہزار 287 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 اور 144 میں ضمنی انتخاب کے لئے ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو بلا تعطل شام 5 بجے تک جاری رہا۔ لاہور کے حلقہ این اے 122 کے غیرحتمی اورغیرسرکاری نتائج کے مطابق (ن) لیگی امیدوارایازصادق 75 ہزار287 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جب کہ ان کے مد مقابل تحریک انصاف کے امیدوار 71 ہزار 256 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے اور عددی حیثیت سے ایاز صادق نے علیم خان کو 4 ہزار 31 ووٹوں سے شکست ہوئی۔ دوسری جانب اوکاڑہ کے حلقہ این اے 144 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری اور غیرحتمی نتائج کے مطابق آزاد امیدوار ریاض الحق نے کامیابی حاصل کرلی۔ ریاض الحق 81 ہزار240 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے جب کہ ان کے مخالف مسلم لیگ (ن) کے امیدوارعلی عارف 42 ہزار50 ووٹ حاصل کرسکے ، مجموعی طور پر (ن) لیگ کے امیدوار کو 39 ہزار190 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انتخابی دوڑ میں تحریک انصاف کے امیدواراشرف سوہنا صرف 7 ہزار105 ووٹ ہی حاصل کرسکے۔

این اے 122 لاہور میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 47 ہزار 762 ہے جس میں سے مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 90 ہزار 328 ہے، حلقے میں 284 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے جس میں سے 80 کو حساس قرار دیا گیا گیا۔ تمام پولنگ اسٹیشنز پر فوجی اہلکار تعینات کئے گئے جب کہ  5 ہزار پولیس اہلکاروں نے بھی ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیئے۔ الیکشن ڈیوٹی کے لئے پولیس نے 38 مقامات پر ناکہ بندی کی۔ لاہور ہی میں پی پی 147 میں بھی ضمنی انتخاب کے لئے پولنگ ہوئی جس کے لئے (ن) لیگ کے محسن لطیف اور تحریک انصاف کے شعیب صدیقی کے درمیان کڑا مقابلہ ہے۔

الیکشن کمیشن نے تمام پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے اور صوبائی مرکزی آفس میں کنٹرول روم بھی قائم کیا جس کی نگرانی صوبائی چیف الیکشن کمشنر نے کی جب کہ اسلام آباد میں قائم کئے گئے کنٹرول روم کی نگرانی چیف الیکشن کمشنر اور سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کی۔

ضمنی انتخاب کے دوران لاہور کے علاقے بستی سیداں شاہ اپر مال روڈ پر پولیس کی موجودگی میں (ن) لیگ اور تحریک انصاف کے کارکن آپس میں گھتم گھتا بھی ہوئے، ایک دوسرے پر لاتوں اور مکوں کی برسات کی گئی، کرسیاں چلائی گئیں اور مخالفین کے بینرز اکھاڑ دیئے گئے۔ تحریک انصاف کے مشتعل کارکنوں نے (ن) لیگ کا پولنگ کیمپ اکھاڑ کر پھینک دیا تاہم فوجی جوانوں کی آمد کے بعد حالات قابو میں آ گئے اور دونوں جماعتوں کے کارکن اپنے اپنے کیمپوں میں چلے گئے۔ پی ٹی آئی اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان تصادم پولنگ بوتھ نمبر 89، 90، 91، 92 اور 95 پر ہوا تاہم اس سارے عمل کے باوجود پولنگ کا عمل بلا تعطل جاری رہا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے شیخ سردار ہائی اسکول گڑھی شاہو میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا،اس کے علاوہ گڑھی شاہو میں (ن) لیگ اور تحریک انصاف کے امیدواروں کی گاڑیاں آمنے سامنے آنے پر دونوں جماعتوں کے کارکنان نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی جب کہ سمن آباد کے علاقے میں بھی دونوں جماعتوں کے کارکنان کے درمیان ہاتھا پائی دیکھنے میں آئی۔

این اے 122 لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق اور تحریک انصاف کے علیم خان کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے جب کہ پیپلزپارٹی کے عامر حسین بھی اس حلقے سے میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ این اے 144 اوکاڑہ میں بھی ضمنی انتخابات کے لئے بھی ووٹنگ ہوئی، اوکاڑہ میں میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما علی عارف چوہدری اور آزاد امیدوار چوہدری ریاض کے درمیان مقابلہ ہوگا جب کہ اس حلقے سے اشرف سوہنا تحریک انصاف کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ضمنی انتخابات میں دلہا اور دلہن شادی چھوڑ کر ووٹ ڈالنے پہنچ گئے

ووٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے اوریہ پہلے سے ہی ارادہ تھا کہ ووٹ دالنے ضرورجانا ہے،دلہن

ووٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے اوریہ پہلے سے ہی ارادہ تھا کہ ووٹ دالنے ضرورجانا ہے،دلہن

لاہور / اوکاڑہ: ضمنی انتخابات کے لیے دلہا بارات چھوڑ کر ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچ گیا جب کہ مایوں کے کپڑوں میں ملبوس دلہن بھی ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ اسٹیشن پہنچ گئی۔

 ضمنی انتخابات کی گہما گہمی عروج پرہے جہاں بچے، بڑے اوربوڑھے سب ہی پرجوش دکھائی دے رہے ہیں وہیں لاہورمیں این اے 122 کے ضمنی انتخاب میں عامر خان نامی دلہا پھولوں سے سجی گاڑی پر اہل خانہ کے ہمراہ ووٹ ڈالنے پہنچے اور اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ اس موقع پردلہا کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے کے بعد ہی بارات لے کر جائیں گے۔ دولہا کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح ان کی زندگی میں شادی کے بعد تبدیلی آنے والی ہے بالکل اسی طرح وہ تحریک انصاف کو ووٹ دے کر اپنے حلقے میں بھی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

دوسری جانب اوکاڑہ میں این اے 144 میں ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ جاری ہے جہاں رخصتی سے قبل مایوں کے کپڑوں میں ملبوث چاندنی نامی دلہن بھی اپنا ووٹ ڈالنے آئی۔ اس موقع پردلہن کا کہنا تھا کہ رخصتی تو ہو جائے گی لیکن ووٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے اوریہ پہلے سے ہی ارادہ تھا کہ ووٹ دالنے ضرورجانا ہے۔ دلہن کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے رہنما اشرف سوہنا نے حلقے میں کسانوں کیلئے بہت اچھے کام کئے اس لئے ہم انہیں ووٹ دینے آئیں۔